رمضان کے مہینے میں بیوی سے ہمبستری کا حکم کیا ہے؟

رمضان کی مہینے میں بیوی سے ہمبستری کرنا ازروئے شرع کیسا ہے؟



   قرآن مجید میں ماہ رمضان میں طلوع فجر تک کھانے پینے اور عمل ازواج کی اجازت ہے اللہ تعالی فرماتا ہے

  _*📖فَالْــٴٰـنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ۪-وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ۪۔*_

تو اب ان سے صحبت کرو اور طلب کرو جو اللہ نے تمہارے نصیب میں لکھا ہو اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہارے لیے ظاہر ہوجائے سفیدی کا ڈورا سیاہی کے ڈورے سے پوپھٹ کر۔

جب طلوع فجر تک ازدواج فعل میں مشغول رہنا جائز ہوا تو حالت جنابت میں روزے کی نیت کرنا بھی جائز ہوگیا ۔ صحیحین میں ام المومنین حضرت عائشہ اور ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے

ان رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کان یدرکه الفجر ، وهو جنب من اهله ، ثم يغسل ويصوم

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ازواج مطہرات سے قربت فرماتے اور کبھی حالت جنابت میں صبح ہوجاتی پھر آپ غسل فرماتے اور روزہ رکھتے

صحیح بخاری رقم الحدیث 1926))

ان عائشة زوج النبى صلى اللہ تعالی علیہ وسلم قالت قد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يدركه الفجر فى رمضان وهو جنب من غير حلم فيغسل و يصوم

ترجمہ
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ ماہ رمضان میں کبھی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر احتلام کے بغیر جنابت میں صبح آ جاتی  ، آپ غسل فرماتے اور روزہ رکھتے۔*_

صحیح مسلم، رقم الحدیث 2486)

حالت جنابت میں صبح صادق ہوئی ہو یا روزہ کی حالت میں دن کے کسی حصے میں احتلام کے سبب غسل فرض ہو گیا ہو۔ تو روزے پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ حدیث شریف میں ہے
_*عن ابی سعید ں الخدری قال: قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم: ثلاث لا یفطرن الصائم: الحجامة ، وألقى ، والاحتلام
ترجمہ
حضرت ابو سعید خردی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں روزے دار کا روزہ نہیں ٹوڑتیں : پچھنا (فصد) لگوانا اور قے اور احتلام۔

(سنن ترمذی، رقم الحدیث 719)

علامہ نظام الدین رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں : ومن اصبح جنبا او احتلم فی النھار لم یضرہ کذا فی محیط السرخسی۔*_

ترجمہ
اور جس نے حالت جنابت میں صبح کی یا دن میں احتلام ہو گیا ، تو یہ اس کے روزے کے لئے نقصان دہ نہیں  محیط سرخی میں اسی طرح ہے۔

فتاوی عالمگیری جلد اول صفحہ نمبر 200

تاہم بیدار ہونے کے بعد غسل کر کے پاک ہونا چائے اور غسل واجب میں تاخیر مکروہ تحریمی ہے جس سے کوئی فرض نماز قضا ہوجائے۔ اگر نماز قضا ہوگئی تو گناہگار ہوگا اگر سحری کئ وقت بیدار ہوا اس پر غسل جنابت واجب ہے اور روزہ بند ہونے یعنی صبح صادق طلوع ہونے میں وقت اتنا تنگ ہے کہ اگر غسل کرتا ہے تو سحری لا وقت نہیں رہتا تو ہاتھ منہ دھو کر سحری کر کے روزہ رکھ لے اور اس کے بعد غسل کر لے

واللہ اعلم باالصواب