اشاعتیں

زکوٰۃ لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

زکوٰۃ کا مال مسجد میں لگانے کا شرعی طریقہ کیا ہے؟

فتاویٰ رضویہ شریف جلد 10 زکوٰۃ کاروپیہ کوئی مسلمان قبضہ کرکے جوخود بھی مستحقِ زکوٰۃ ہوتوسیعِ مسجد میں صرف کرے تو جائز ہے یا کس صورت سے؟بینواتوجروا الجواب :زکوٰۃ دہندہ نے اگر زرِ زکوٰۃ مصرف زکوٰۃ کو دے کر اس کی تملیک کردی تواب اُسے اختیار ہے جہاں چاہے صرف کرے کہ زکوٰۃ اس کی تملیک سے ادا ہوگئی، یُوں ہی اگر مزکی نے زرِ زکوٰۃ اسے دیا اور ماذون مطلق کیا کہ اس سے جس طور پر چاہو میری زکوٰۃ ادا کردو اس نے خود بہ نیتِ زکوٰۃ لے لیا، اس کے بعد مسجد میں لگادیا تو یہ بھی صحیح وجائز ہے، یونہی اگر مزکی نے زرِ زکوٰۃ نکال کر رکھا تو فقیر نے بے اس کی اجازت کے لے لیا اور مالک نے بعداطلاع اس کا لینا جائز کردیا اور اس کے بعد فقیر نے مسجد میں صَرف کیا تو یہ بھی صحیح ہے،اور اگر فقیر نے بطور خود قبضہ کرلیا اور مالک نے اُسے جائز نہ کیا یا بعد اس کے کہ یہ مسجد میں لگا چُکا،جائز کیا، تو زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔ یونہی اگر مالک نے اسے روپیہ دیا اور وکیل کیا کہ میری طرف سے کسی فقیر کو دے دو یہ بھی فقیر ہے خود لے لیا اور مسجد میں لگا دیا تواب بھی زکوٰۃ ادا نہ ہوئی اگر چہ اسے ماذون مطلق کیا ہو کہ تملیک نہ پا...

نادار ماں اور بہن کو زکوٰۃ دینے کا شرعی حکم کیا ہے؟

فتاویٰ رضویہ شریف جلد 10 کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص اپنی والدہ اور ہمشیرہ کو باوجود بیوہ اور یتیم ہونے کے کچھ نہ دے اور وہ تکالیف اٹھاتی ہوں اس حالت میں اگر زید صاحبِ نصاب ہو اور زکوٰۃ صدقہ ادا کرے تو وہ قبول ہوگا یا نہیں؟اور زید کے واسطے شرع شریف میں کیا حکم ہے؟بینواتوجروا الجواب : زید کی ماں اگر کوئی ذریعہ معاش نہیں رکھتی تو اس کا نفقہ زید پر فرض ہے یُوں ہی یتیم بہن کہ جس کی شادی نہ ہوئی ہو،نہ اس کے پاس کچھ مال ہو، ان کو نہ دینے سے اس پر گناہِ عظیم ہے۔ حدیث میں فرمایا:کفٰی بالمرء اثما ان یضیع من یقوت۔۲؎آ دمی کے گناہگار ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وُہ ایسے لوگوں کو محروم رکھے جن کا خرچہ اس کے ذمہ ہو۔(ت)رہی زکوٰۃ، وہ ماں کو نہیں دے سکتابہن کو دے اور ماں کی خدمت اپنے پاس سے کرے ۔ واﷲتعالیٰ اعلم۔

میت کے نام پر کھانے کا شرعی حکم اور عیدی کے نام پر زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم کیا ہے؟

میت کے نام پر کھانا کھانے کا حکم! دل میں زکوٰۃ اور زبان پر عیدی۔اب زکوٰۃ کا حکم کیا ہے؟ فتاویٰ رضویہ شریف جلد 9 کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ:(۱) سوم ودہم وچہلم میّت کے لیے کھانا جو پکتا ہے اس کو برادری کو کھلائے اور خود جاکر کھائے توجائز ہے؟ بعض کہتے ہیں کہ تین روز کے اندر میّت کے گھر کا نہ کھائے بعد کو جائز ہے۔ یہ تفریق صحیح ہے؟اگر صحیح ہے تو وجہ ما بہ الفرق ارشاد ہو ۔ (۲) مقولہ طعام المیّت یمیت القلب (طعام میّت دل کو مردہ کردیتا ہے۔ ت) مستند قول ہے۔ اگر مستند ہے توا س کے کیا معنٰی ہیں؟ الجواب(۱) سوم، دہم وچہلم وغیرہ کا کھانا مساکین کو دیا جائے، برادری کو تقسیم یا برادری کے جمع کرکے کھلانا بے معنی ہے۔کما فی مجمع البرکات (جیسا کہ مجمع البرکات میں ہے۔ ت) موت میں دعوت ناجائز ہے۔ فتح القدیر وغیرہ میں ہے:انھا بدعۃ مستقبحۃ لانھا شرعت فی السرور لافی الشرور ۲؎ ۔وہ بری بدعت ہے کیونکہ دعوت کو شریعت نے خوشی میں رکھا ہے، غمی میں نہیں۔ (ت) (۲؎ فتح القدیر        فصل فی الدفن     ...

سال مکمل ہونے سے پہلے زکوٰۃ نکالنے کا حکم

سال پورا ہونے سے پہلے زکوٰۃ نکالنے کا حکم شرعی عدالت مسلک اعلیٰ حضرت      کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ صاحبِ نصاب کا سال پورا ہونے سے پہلے زکوٰۃ نکالنا کیسا ہے؟ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ      زکوٰۃ سال پورا ہونے سے پہلے دی جا سکتی ہے،لیکن اس میں یہ ضروری ہے کہ  زکوٰۃ دینے والا زکوٰۃ کی پیشگی ادائیگی کرتے وقت نصاب  کا مالک ہو اور سال پورا ہونے پر بھی نصاب کا مالک رہے۔اگر سال پورا ہونے پر اس کے پاس نصاب کی قدر مال نہ رہا یا سال پورا ہونے سے پہلے نصاب مکمل طور پر ہلاک ہو گیا ، تو پہلے دی ہوئی زکوٰۃ نفل ہو جائے گی۔چونکہ زکوٰۃ سال مکمل ہونے سے پہلے بھی دی جا سکتی ہے ، لہٰذا صاحبِ نصاب یوں بھی کر سکتا ہے کہ دورانِ سال تھوڑی تھوڑی کر کے زکوٰۃ ادا کرتا رہے اور سال مکمل ہونے پر اپنے اوپر واجب ہونے والی مقدار کا حساب لگائے،جو مقدار حاصل ہو ، اگر اس کے برابر زکوٰۃ ادا کر چکا ہو ، تو وہ اپنا واجب ادا کر چکا اور اگر کم ادا کیا...

زکوٰۃ کا مال کن کن لوگوں کو دیا جاسکتا ہے؟

زکوٰۃ کا مال کن کن لوگوں کو دیا جاسکتا ہے؟ ۱۲۲ :مرسلہ مولوی نیاز محمد خاں مسئلہ بدایونی وارد حال مانو گاچہ ملک پیراک ۲ربیع الثانی ۱۳۳۲ھ فطرہ کا پیسہ کون کون سے کام میں صرف ہوسکتا ہے اور کس کس شخص کو دیا جاسکتا ہے؟الجواب :فطرہ کے مصارف بعینہٖ مصارف ِزکوٰۃ ہیں، واﷲتعالیٰ اعلم مسئلہ ۱۲۳: از بریلی محلہ کانکر ٹولہ متصل مسجد خورد مرسلہ جناب الطاف علی صاحب ۱۳ ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص اپنی والدہ اور ہمشیرہ کو باوجود بیوہ اور یتیم ہونے کے کچھ نہ دے اور وہ تکالیف اٹھاتی ہوں اس حالت میں اگر زید صاحبِ نصاب ہو اور زکوٰۃ صدقہ ادا کرے تو وہ قبول ہوگا یا نہیں؟اور زید کے واسطے شرع شریف میں کیا حکم ہے؟بینواتوجروا الجواب : زید کی ماں اگر کوئی ذریعہ معاش نہیں رکھتی تو اس کا نفقہ زید پر فرض ہے یُوں ہی یتیم بہن کہ جس کی شادی نہ ہوئی ہو،نہ اس کے پاس کچھ مال ہو، ان کو نہ دینے سے اس پر گناہِ عظیم ہے۔ حدیث میں فرمایا:کفٰی بالمرء اثما ان یضیع من یقوت۔۲؎آ دمی کے گناہگار ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وُہ ایسے لوگوں کو محروم رکھے جن کا خرچہ اس کے ذمہ ہو۔(ت)رہی زکوٰۃ، وہ ماں...

کیا زکوٰۃ کے مال سے مدرسین کو تنخواہ دے سکتے ہیں؟

فتاویٰ رضویہ شریف جلد 10 صفحہ نمبر 49 شعبان ۱۳۳۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مالِ زکوٰۃ مدرسہ اسلامیہ میں دینا جائز ہے یا نہیں؟ الجواب :مدرسہ اسلامیہ اگر صحیح اسلامیہ خاص اہلسنت کا ہو۔ نیچریوں، وہابیوں، قادیانیوں، رافضیوں، دیوبندیوں وغیرہم مرتدین کا نہ ہو تو اس میں مالِ زکوٰۃ اس شرط پر دیا جاسکتا ہے کہ مہتمم اس مال کو جُدا رکھے اور خاص تملیک فقیر کے مصارف میں صرف کرے مدرسین یا دیگر ملازمین کی تنخواہ اس سے نہیں دی جاسکتی۔ نہ مدرسہ کی تعمیر یا مرمت یا فرش وغیرہ میں صرف ہوسکتی ہے، نہ یہ ہوسکتا ہے کہ جن طلبہ کو مدرسہ سے کھانا دیاجاتاہے اُس روپے سے کھانا پکا کر اُن کو کھلایا جائے کہ یہ صورتِ اباحت ہے اور زکوٰۃ میں تملیک لازم ہاں یُوں کرسکتے ہے کہ جن طلبہ کو کھانا دیا جاتا ہے اُن کو نقد روپیہ بہ نیّت زکوٰۃ دے کر مالک کردیں پھر وُہ اپنے کھانے کیلئے واپس دیں یاجن طلبہ کا وظیفہ نہ اجرۃً بلکہ محض بطور امداد ہے اُن کے وظیفے میں دیں یا کتابیں خرید کر طلبہ اُن کا مالک کردیں۔ ہاں اگر روپیہ بہ نیّت زکوٰۃکسی مصرف زکوٰۃ  کو دے کر مالک کردیں وُہ اپنی طرف سے مدرسہ کو دے...