غلطی سے پانی حلق میں چلا گیا اور اب روزے کا حکم کیا ہے؟
حالت روزہ میں غلطی سے پانی حلق میں اتر گیا، تو اب روزے کا حکم کیا ہے؟ (اسلامک فتویٰ مسلک اعلیٰ حضرت ) کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیا نِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگروضو کرتے ہوئے غلطی سے پانی حلق میں اتر جائے ، تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں ؟ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ روزہ یاد ہونے کی صورت میں کلی کرتے ہوئے اگر غلطی سے پانی حلق سے نیچے اتر جائے ، تو اس صورت میں روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اس کی قضا بھی لازم ہوگی اور اگر کسی کو روزہ یاد ہی نہ ہو ، تو پھر نہیں ٹوٹے گا۔ چنانچہ مبسوط میں ہے : ’’واذاتمضمض الصائم فسبقہ الماء فدخل حلقہ فان لم یکن ذاکرالصومہ فصومہ تام وان کان ذاکرالصومہ فعلیہ القضاء ‘‘ جب روزے دارنے غرغرہ کیااورپانی چڑھ کرحلق میں داخل ہوگیاتواگراسے اپناروزہ یادنہ ہوتوروزہ صحیح ہے اوراگرروزہ یادہے تو اس پرقضالازم ہے ۔‘‘ (المبسوط، کتاب الصوم ،ج3،ص71،مطبوعہ کوئٹہ ) تنویرالابصار ودرمختارمیں ہے :...