روزے کے بدلے فدیہ دینے کا حکم کیا ہے؟



جوروزہ رکھنےکی طاقت کےباوجود فد یہ د ے اسکےلئےکیاحکم ھے؟
اگر کسی کو روزہ رکھنے کی طاقت ھو پھر بھی فد یہ د یکر بر ی ھونا چاہتاھے تو کیاوہ ایسا کر سکتاھے *

جواب       
جب روزہ رکھنے کی طاقت ہے تو فد یہ ادا کرنے سے ہرگز بر ی نہیں ہوگا اس پر ان تمام روزوں کی قضا فرض ھے ۔
( *فتاوی فقیہ ملت جلد 1 صفحہ 341* )

سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی رحمۃ اللّٰہ علیہ فرماتے ہیں

فد یہ یہ صرف شیخ فانی کے لئے رکھا گیا ھے جو  بسبب پیرانہ سالی حقیقتا روزہ کی قدرت نہ رکھتا ھو نہ آئنده طاقت کی امید ,, کہ عمرجتنی بڑھے گی ضعف بڑھے گا اس کے لئے فد یہ کاحکم ھے اور جوشخص روزه خود رکھ سکتا ھو ایسا مریض نہیں جس کے مرض کو روزہ مضر ھو اس پرخود روزہ رکھنا فرض ,, اگر چہ تکلیف ھو *( فتاوی رضویہ جلد 4صفحہ 202 )*
اور حاشیہ *فتاوی امجد یہ جلد اول صفحہ 396 پر ھے* ” جتنے روز ے ذ مہ میں ہیں جب تک اس کو قوت ھو فرض ھے کہ ان کی قضا کرےقوت ھوتے ھوئے ان کا فد یہ ادا کرنا کافی نہ ھوگا ۔ اور حضرت علامہ ابن عابد ین شامی قد س سره  تحر یر فرماتے ہیں "ليس على غيره الفد اء ( ای الشيخ الفانی ) لان نحو المرض و السفر فی عرضة الزوال فيجب القضاء وعند العجز بالموت تجب الوصية بالفد ية
( *شامی جلد 2صفحہ 130* )
( *فتاوی فقیہ ملت جلد 1 صفحہ 341* )
شیخ فانی کو اجازت ہیکہ روزہ ترک کرے باقی مریض کو روزہ رکھنا فرض ہے اگرچہ تکلیف ہواور اگر ترک کیا ہے تو قضاء کرنا فرض ہے فقط فدیہ کافی نہ ہوگا

والله اعلم بالصواب