بھول کر کھانے پینے سے روزے کا حکم کیا ہے؟


بھول کر کھانے پینے سے روزے کا حکم (دلائل کی روشنی میں)

شرعی عدالت مسلک اعلیٰ حضرت

اسلامک فتویٰ

بخاری شریف
کتاب: روزے کا بیان
باب: باب: اگر روزہ دار بھول کر کھا پی لے تو روزہ نہیں جاتا۔
حدیث نمبر: 1933

حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ سِيرِينَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا نَسِيَ فَأَكَلَ وَشَرِبَ، ‏‏‏‏‏‏فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ.

ترجمہ:
ہم سے عبدان نے بیان کیا کہ ہمیں یزید بن زریع نے خبر دی، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ابن سیرین نے بیان کیا، کہ ابوہریرہ (رضی اللّٰہ عنہ) نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا کہ  کہ آپ  ﷺ  نے فرمایا جب کوئی بھول گیا اور کچھ کھا پی لیا تو اسے چاہیے کہ اپنا روزہ پورا کرے۔ کیونکہ اس کو اللہ نے کھلایا اور پلایا۔

صحیح مسلم
کتاب: روزوں کا بیان
باب: اس بات کے بیان میں کہ بھول کر کھانے پینے اور جماع کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا
حدیث نمبر: 2716

و حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هِشَامٍ الْقُرْدُوسِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ فَأَکَلَ أَوْ شَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ
ترجمہ:
عمرو بن محمد ناقد، اسماعیل بن ابراہیم، ہشام فردوسی، محمد بن سیرین، حضرت ابوہریرہ (رضی اللّٰہ عنہ)سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو آدمی روزے کی حالت میں بھول جائے اور کھا پی لے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنا روزہ پورا کرلے کیونکہ اس کو یہ اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے۔

سنن ابوداؤد
کتاب: روزوں کا بیان
باب: روزہ میں بھول سے کچھ کھا پی لینا
حدیث نمبر: 2398

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏وَحَبِيبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهِشَامٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنِّي أَكَلْتُ وَشَرِبْتُ نَاسِيًا وَأَنَا صَائِمٌ. فَقَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُ أَطْعَمَكَ وَسَقَاكَ.
ترجمہ:
ابوہریرہ (رضی اللّٰہ عنہ) کہتے ہیں کہ  نبی اکرم  ﷺ  کی خدمت میں ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے بھول کر کھا پی لیا، اور میں روزے سے تھا؟ تو آپ  ﷺ  نے فرمایا:  تمہیں اللہ تعالیٰ نے کھلایا پلایا ۔  

جامع ترمذی
کتاب: روزوں کے متعلق ابواب
باب: روزے میں بھول کر کھانا پینا
حدیث نمبر: 721
  
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏  مَنْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ نَاسِيًا فَلَا يُفْطِرْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ رَزَقَهُ اللَّهُ .

ترجمہ:

ابوہریرہ (رضی اللّٰہ عنہ)کہتے ہیں کہ  رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا:  جس نے بھول کر کچھ کھا پی لیا، وہ روزہ نہ توڑے، یہ روزی ہے جو اللہ نے اسے دی ہے 

سنن ابن ماجہ
کتاب: روزوں کا بیان
باب: بھولے سے افطار کرنا
حدیث نمبر: 1673
  
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَوْفٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خِلَاسٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ أَكَلَ نَاسِيًا وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ.

ترجمہ:

ابوہریرہ (رضی اللّٰہ عنہ )کہتے ہیں کہ  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:  جس نے بھول کر کھالیا اور وہ روزہ دار ہو تو اپنا روزہ پورا کرلے  (توڑے نہیں)  اس لیے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے کھلایا اور پلایا ہے ۔  

مشکوٰۃ المصابیح

کتاب: روزہ کو پاک کرنے کا بیان
باب: بھول چوک سے کھانا پینا معاف ہے
حدیث نمبر: 2012

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :  من نسي وهو صائم فأل أو شرب فليتم صومه فإنما أطعمه الله وسقاه
ترجمہ:

حضرت ابوہریرہ (رضی اللّٰہ عنہ)راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص روزہ دار ہو اور وہ بھول چوک سے کچھ کھا پی لے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنا روزہ پورا کرے کیونکہ وہ کھلانا پلانا اللہ کی طرف سے ہے۔ (بخاری ومسلم)  

وضاحت

   یہ حکم علی الاطلاق ہر روزہ کے لئے ہے خواہ فرض روزہ ہو یا نفل وغیرہ کہ اگر کوئی روزہ دار بھول کر کچھ کھالے یا پی لے تو اس کا روزہ نہیں جاتا چناچہ تمام ائمہ کا مسلک یہی ہے البتہ امام مالک فرماتے ہیں کہ اگر یہ صورت رمضان میں پیش آئے تو اس کی قضاء ضروری ہوگی۔   ہدایہ میں لکھا ہے کہ جب کھانے پینے کے بارے میں یہ حکم ثابت ہوا تو جماع کے بارے میں بھی یہی حکم ہوگا یعنی اگر کوئی شخص روزہ کی حالت میں بھول کر جماع کرلے تو اس کے روزہ پر کچھ اثر نہیں پڑے گا۔


فتاوی ہندیہ


إذَا أَكَلَ الصَّائِمُ أَوْ شَرِبَ أَوْ جَامَعَ نَاسیا لمْ يُفْطِرْ، وَلَا فَرْقَ بَيْنَ الْفَرْضِ وَالنَّفَلِ كَذَا فِي الْهِدَايَةِ.
وَلَوْ قِيلَ لِرَجُلٍ يَأْكُلُ إنَّك صَائِمٌ، وَهُوَ لَا يَتَذَكَّرُ فَالصَّحِيحُ أَنَّهُ يَفْسُدُ صَوْمُهُ هَكَذَا فِي الظَّهِيرِيَّةِ.
رَجُلٌ نَظَرَ إلَى صَائِمٍ يَأْكُلُ نَاسِيًا إنْ رَأَى فِيهِ قُوَّةً يُمْكِنُهُ أَنْ يُتِمَّ الصَّوْمَ إلَى اللَّيْلِ فَالْمُخْتَارُ أَنَّهُ يُكْرَهُ أَنْ لَا يُذَكِّرَهُ، وَإِنْ كَانَ يَضْعُفُ فِي الصَّوْمِ بِأَنْ كَانَ شَيْخًا كَبِيرًا يَسَعُهُ أَنْ لَا يُخْبِرَهُ كَذَا فِي الظَّهِيرِيَّةِ فِي فَصْلِ الْأَعْذَارِ الْمُبِيحَةِ.
لَوْ أَكَلَ مُكْرَهًا أَوْ مُخْطِئًا عَلَيْهِ الْقَضَاءُ دُونَ الْكَفَّارَةِ كَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ.
الْمُخْطِئُ هُوَ الذَّاكِرُ لِلصَّوْمِ غَيْرُ الْقَاصِدِ لِلْفِطْرِ إذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ هَكَذَا فِي النَّهْرِ الْفَائِقِ.
وَالنَّاسِي عَكْسُهُ، هَكَذَا فِي النِّهَايَةِ وَالْبَحْرِ الرَّائِقِ.
إذَا أَكَلَ الصَّائِمُ أَوْ شَرِبَ أَوْ جَامَعَ نَاسِيًا لَمْ يُفْطِرْ، وَلَا فَرْقَ بَيْنَ الْفَرْضِ وَالنَّفَلِ كَذَا فِي الْهِدَايَةِ.

در مختار بمعروف فتاویٰ شامی

بَابُ مَا يُفْسِدُ الصَّوْمَ وَمَا لَا يُفْسِدُهُ الْفَسَادُ وَالْبُطْلَانُ فِي الْعِبَادَاتِ سِيَّانِ (إذَا أَكَلَ الصَّائِمُ أَوْ شَرِبَ أَوْ جَامَعَ) حَالَ كَوْنِهِ (نَاسِيًا) فِي الْفَرْضِ وَالنَّفَلِ قَبْلَ النِّيَّةِ أَوْ بَعْدَهَا عَلَى الصَّحِيحِ بَحْرٌ عَنْ الْقُنْيَةِ إلَّا أَنْ يُذَكَّرَ فَلَمْ يَتَذَكَّرْ -
بہار شریعت جلد اول حصّہ پنجم


بہار شریعت

 بھول کر کھایا یا پیا یا جماع کیا روزہ فاسد نہ ہوا۔ خواہ وہ روزہ فرض ہو یا نفل اورروزہ کی نیّت سے پہلے یہ چیزیں  پائی گئیں  یا بعد میں ، مگر جب یاد دلانے پر بھی یاد نہ آیا کہ روزہ دار ہے تو اب فاسد ہو جائے گا، بشرطیکہ یاد دلانے کے بعد یہ افعال واقع ہوئے ہوں  مگراس صورت میں  کفارہ لازم نہیں ۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
        مسئلہ ۲:  کسی روزہ دارکو ان افعال میں  دیکھے تو یاد دلانا واجب ہے، یاد نہ دلایا تو گنہگار ہوا، مگر جب کہ وہ روزہ دار بہت کمزور ہو کہ یاد دلائے گا تو وہ کھانا چھوڑ دے گا اور کمزوری اتنی بڑھ جائے گی کہ روزہ رکھنا دشوار ہوگا اور کھا لے گا تو روزہ بھی اچھی طرح پورا کر لے گا اور دیگر عبادتیں  بھی بخوبی ادا کر لے گا تو اس صورت میں  یاد نہ دلانا بہتر ہے۔
             بعض مشایخ نے کہا جوان کو دیکھے تو یاد دلادے اور بوڑھے کو دیکھے تو یاد نہ دلانے میں  حرج نہیں ۔ مگر یہ حکم اکثر کے  لحاظ سے ہے کہ جوان اکثر قوی ہوتے ہیں  اور بوڑھے اکثر کمزور اور اصل حکم یہ ہے کہ جوانی اور بڑھاپے کو کوئی دخل نہیں ، بلکہ  قوت و ضعف (6)  کا لحاظ ہے، لہٰذا اگر جوان اس قدر کمزور ہو تو یاد نہ دلانے میں  حرج نہیں  اوربوڑھا قوی ہو تو یاد دلاناواجب۔(ردالمختار)

جملہ مذکورہ بالا احادیث کریمہ اور عبارات فقہاء کرام کا ما حصل اتنا ہیکہ مسلک احناف میں اگر کوئی شخص بھول کر کھانا کھالے یا پانی پی لے یا خورد و نوش میں کسی بھی چیز کا استعمال کرلےتو روزہ نہیں ٹوٹےگا یہاں تک کہ اگر بیوی سے ہمبستری بھی کرلے تو بھی روزہ نہیں ٹوٹےگا ہاں امام مالک رحمۃ اللّٰہ علیہ کے نزدیک ہمبستری کی صورت میں رمضان کا روزہ ٹوٹ جائے گا اور بعد میں اسکا قضاء کرے گا
وَاللہُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم