نادار ماں اور بہن کو زکوٰۃ دینے کا شرعی حکم کیا ہے؟

فتاویٰ رضویہ شریف جلد 10

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو شخص اپنی والدہ اور ہمشیرہ کو باوجود بیوہ اور یتیم ہونے کے کچھ نہ دے اور وہ تکالیف اٹھاتی ہوں اس حالت میں اگر زید صاحبِ نصاب ہو اور زکوٰۃ صدقہ ادا کرے تو وہ قبول ہوگا یا نہیں؟اور زید کے واسطے شرع شریف میں کیا حکم ہے؟بینواتوجروا
الجواب : زید کی ماں اگر کوئی ذریعہ معاش نہیں رکھتی تو اس کا نفقہ زید پر فرض ہے یُوں ہی یتیم بہن کہ جس کی شادی نہ ہوئی ہو،نہ اس کے پاس کچھ مال ہو، ان کو نہ دینے سے اس پر گناہِ عظیم ہے۔ حدیث میں فرمایا:کفٰی بالمرء اثما ان یضیع من یقوت۔۲؎آ دمی کے گناہگار ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وُہ ایسے لوگوں کو محروم رکھے جن کا خرچہ اس کے ذمہ ہو۔(ت)رہی زکوٰۃ، وہ ماں کو نہیں دے سکتابہن کو دے اور ماں کی خدمت اپنے پاس سے کرے ۔ واﷲتعالیٰ اعلم۔