رمضان کا قضا روزہ کب رکھنا ہے؟
قضائے رمضان کے روزےکسی بھی موسم میں رکھ سکتےہیں؟
(شرعی عدالت مسلک اعلیٰ حضرت)
(اسلامک فتویٰ)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ اگر کسی شرعی مجبوری کی وجہ سے رمضان کے روزے چھوٹ جائیں ،تو انہیں کسی بھی وقت رکھ سکتے ہیں ،یا سردیوں میں چھوٹے ہوئے ،سردیوں میں اور گرمیوں میں چھوٹے ہوئے ،گرمیوں ہی میں رکھنے ہوں گے ؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
کسی بھی وجہ سے خواہ عذر شرعی کی بنا پر یابغیر کسی عذر کے ،رمضان المبارک کے فرض روزے نہ رکھے ہوں ،تو ان کی قضا کرنا ضروری ہے، اور قضا میں اس کا اصلاً اعتبار نہیں کہ جس موسم میں روزے چھوٹے ہیں اسی موسم میں رکھے جائیں، یعنی سردیوں کے روزے سردیوں میں اور گرمیوں کے روزے گرمیوں میں رکھنے کا شرعاً کوئی حکم نہیں ۔البتہ جلد از جلد روزے رکھنے چاہئیں،اور اتنی تاخیر نہ کی جائے کہ اگلا ماہِ رمضان آجائےکہ پچھلے فرض روزے ذمے پر باقی رہنے کی صورت میں اس رمضان کے روزے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں مقامِ قبولیت پانے سے محروم رہتے ہیں،نیز عید الفطر اور ذولحجہ کی دسویں،گیارہویں،بارہویں اور تیرہویں یعنی ان پانچ دنوں کو چھوڑ کے کبھی بھی رکھ سکتے ہیں، عند الاحناف اگر درمیان سال میں چھوٹے ہوئے روزہ نہ رکھ سکا تو رمضان کے بعد ضرور رکھیں ورنہ گنہگار ہوں گے
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم