وقت نکال کر سحری کرنے سے روزے کا حکم کیا ہے
سحری کا وقت ختم ہونے کے بعد غلطی سے کھانا کھا لیا ، تو روزے کا حکم؟
شرعی عدالت مسلک اعلیٰ حضرت
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کی رمضان میں آنکھ لیٹ کھلی ۔ وہ یہ سمجھتے ہوئے کہ ابھی سحری کا ٹائم باقی ہے ، کھانا کھاتا رہا بعد میں پتہ چلا کہ سحری کا ٹائم تو ختم ہوچکا تھا ، پھر بھی اس شخص نے روزہ رکھ لیا ، تو اس شخص کا روزہ ہوا یا نہیں؟ اگر ایسا ہوچکا ہو ، تو اب کیا حکم ہے؟ کیا گناہ وکفارہ ہے؟ برائے مہربانی رہنمائی فرما دیں۔
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
صورتِ مسئولہ میں اس کا روزہ نہیں ہوا ۔ اس پر اس دن کے روزے کی قضا رکھنا فرض ہے ۔ یعنی اس روزے کے بدلے میں ایک روزہ رکھنا پڑے گا ، لیکن کوئی کفّارہ نہیں اور چونکہ خطاءً ایسا ہوا ہے ، اس لئے گناہ بھی نہیں ہے۔ یاد رہے کہ ایسی صورت میں اگرچہ روزہ نہیں ہوتا ، لیکن بقیہ سارا دن روزہ دار کی طرح رہنا واجب ہوتا ہے ، لہٰذا اگر اس طرح کی صورت کسی کو درپیش ہوئی ہو اور اس نے سارا دن روزہ دار کی طرح نہ گزارا ،تو وہ ضرور گنہگار ہوگا۔
وَاللہُ اَعْلَمُ بالصواب