نمازعید الفطر اور فتاوےکا سبقتی مقابلہ ۔ مگر پانچ پہلو پر بھی ہو معائنہ

مرکزی دارالافتاء بریلی شریف
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

____________________________

اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::


____________________________
اوجھا گنج سے ایک پی ڈی ایف کی شکل میں فتویٰ
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
___________________________________
اتردیناج پور کولکاتا انڈیا

:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::


______________________________
ادارہ شرعیہ پٹنہ بہار
::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::

__________________________________
قاضی ممبئی مہاراشٹر کا فتویٰ آواز کی شکل میں
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
اور بھی بہت سے فتاوے موصول ہو ئے تھے لیکن سب کا ما حصل ایک ہی ہے جو عبارات وآواز سے ظاہر وباہر ہے
----------------------------------------
ایک مخلصانہ مشورہ

آج جس طرح نماز عید الفطر کے لئے فتویٰ پر فتویٰ جاری کیا جارہا ہے ٹھیک اسی طرح تمام مدارس عربیہ کے جملہ اراکین ،مدرسین اور دیگر ذمہ داران کوچند پہلو پر غورو فکر کی ضرورت ہے
(1)
دینی تعلیم کے ساتھ قوانین ہند داخل نصاب ہو تاکہ وقت آنے پر جائز طریقے سے اپنے حقوق حکومت سے مانگ سکے
(2)
مدارس عربیہ کے اندر غیر ضروری  ابحاث  خارج کئے جائیں اور ضروری مسائل کو لازمی قرار دیا جائے
(3)
دس سالہ کورس کرنے کے بعد بھی پچانوے فیصد تدریس کے فرائض انجام نہیں دے سکتے آخر کار انہیں امامت سنبھالنی تھی تو پھر اتنا طویل وقت ضائع کیوں کیا گیا،اس پر نظر وفکرکی ضرورت ہے یا انہیں دستار بندی سےقبل روک دیا جائےنیز انہیں اور انکے گھر والوں کو بلاکر پیار وحکمت سے سمجھا دیاجائے۔یا پھر امامت کا ایک مستقل اور مختصر کورس ہو جس میں اچھےعلمائے کرام کی کامل تربیت ہوتا کہ انکا طویل وقت پچ سکے۔
(4)
سب سے زیادہ محنت ایک مدرس کی ہوتی ہے اور سب میں کم تنخواہ بھی ایک مدرس کی ہوتی ہے اس پر بھی خاص  توجہ اورآپسی میٹنگ کی ضرورت ہے۔ورنہ مستقبل میں اہل علم واہل تحقیق قلیل اور اسٹیج پر لفاظی کثیر ہوں گے۔

(5)
ہمارے پیسے بے انتہا درگاہوں میں اور دیگر مستحب تہواروں میں صرف ہوتے ہیں کیوں نہ ان پیسوں کو اسپتال اور دیگر ضروری چیزوں میں خرچ کیا جائے
:::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::
بات تو بہت ہی مختصر ہےمگرالحاصل اگر عمل کیا جائے تو اگلی نسلوں کے لئے ضرور مفید ہوگااور اگر کم از کم میٹنگ بھی کرتے رہیں تو آنے والی نسلوں کو ایک سوچ ملے گی پھر کبھی نہ کبھی یہ سوچ حقیقی معنی میں تبدیل ہو جائے گی۔اور بھی بہت سےپہلو تھےجسے میں نے قصداً نہیں لکھااور علمائے کرام اگر چاہیں تو بآسانی رکھ بھی سکتے ہیں اور حل بھی کر سکتے ہیں
ناچیز:ضیاء الرحمن رضوی
فقط والسلام
____________________________________________