روزہ نہ رکھنے والے عالم یا حافظ کے پیچھے نماز کا حکم کیا ہے

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص مولوی حافظ ہوکر روزہ نہ رکھے اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں۔؟

الجواب جوبے عذر شرعی روزہ نہ رکھے فاسق اور فاسق کے پیچھے نمازمکروہ تو اگر دوسرے شخص متقی کے پیچھے نماز مل سکے تو اس کے پیچھے نہ پڑھے یہاں تک کہ جمعہ بھی۔فانہ بسبیل من التحول ۱؎کما افادہ المولٰی المحقق حیث اطلق فی الفتح( کیونکہ ایسی صورت میں دوسری مسجد کی طرف منتقل ہونا جائز ہے جیسا کہ فاضل محقق نے فتح میں بیان کیا ہے۔ت) ورنہ پڑھ لے، (۱؎ فتح القدیر     باب الامامۃ    مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۳۰۴)فانہ اولی من الانفراد ۲؎کما فی ردالمحتار عملابقول من یقول ان الکرھۃ تنزیہۃ (کیونکہ اقتداء تنہا نماز ادا کرنے سے اولٰی ہے جیسا کہ ردالمحتار میں ہے تاکہ اس کے قول پرعمل ہوجائے جواسے مکروہ تنزیہی کہتا ہے۔ت) (۲؎ ردالمحتار        باب الامامۃ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۴۱۳)اور پڑھ کر پھر پھیر لےلما ذھب الیہ کثیر من العلماء ان الکرھۃ تحریمیۃ ۱؎ وھوالذی حققہ فی الغنیۃ وغیرھا وھوالاظھر کما بیناہ فی فتاوئٰنا (کیونکہ اکثر علماء کے نزدیک اس میں کراہت تحریمی سے جیسا کہ غنیـہ وغیرہا میں ثابت ہے اور یہی مختار ہے اسے ہم نے اپنے فتاوٰی میں بڑی تفصیل سے لکھا ہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔ (۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المستملی    فصل فی الامامۃ    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور    ص ۵۱۳)

اوپر کی پوری عبارت بعینہ فتاویٰ رضویہ کی ہے اور نیچے کی عبارت 
اسی سے ماخوذ ہےے

اگربلا عذر شرعی روزہ چھوڑا ہے تو اسکے
 پیچھے نہ نماز پڑھے اور نہ نماز جمعہ۔بلکہ دوسرا متقی شخص کے پیچھے پڑھے اور ایسی صورت میں دوسری مسجد کی طرف منتقل ہونا جائز ہے، اور اگر کوئی متقی شخص نہ ملے تو پڑھ لے کیونکہ جماعت سے نماز پڑھنا اکیلا نماز پڑھنے سے اولی ہے۔اور اگلی عبارت لما ذھب الیہ کثیر من العلماء ان الکراہۃ تحریمیۃ کے تحت فاسق کے پیچھے یعنی بلا عذر شرعی کے روزہ چھوڑ نے والے امام کی اقتداء میں پڑھی ہوئی نماز کو دوبارہ پڑھے