قرض دی ہوئی رقم ہر قربانی کا حکم

قرض دی ہوئی رقم پر قربانی کا حکم ؟‎

شرعی عدالت مسلک اعلیٰ حضرت

سوال

     کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ زید کے پاس ایک لاکھ روپے تھے ،رمضان المبارک میں اس نے وہ کسی کو بطور قرض دیے اور طے یہ پایا کہ قرض خواہ محرم الحرام میں واپس کرے گا،اب قربانی کے ایام قریب ہیں اور اس کے پاس کوئی اور مال نہیں اور اپنی رقم ان دنوں میں نہیں مل سکتی، کیا زید پر قربانی کرنالازم ہے یانہیں؟



اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

     صور ت مسئولہ میں زید کے لیے لازم ہے کہ قرض خواہ سے اتنی رقم کا مطالبہ کرے ، جس سے قربانی ہوسکے ، جب کہ اس کو ظن غالب ہوکہ وہ دے دے گا اور اگر کوئی صورت نہ بنے کہ نہ تو زید کوایام قربانی میں وہ رقم مل سکتی ہے اورنہ ہی اس کے پاس کوئی اورمال ہے ، جس سے جانور خرید سکے ، تواس پر قربانی واجب نہیں ۔اس صور ت میں اس پر قرض لے کرقربانی کرنالازم نہیں اور نہ ہی قرض ملنے کے بعد قربانی کے جانور کی قیمت صدقہ کرنالاز م ہے۔

     فتاوی بزازیہ میں ہے:’’لہ دین حال علی مقر ولیس عندہ مایشتر یھا بہ لایلزمہ الاستقراض ولا قیمۃ الاضحیۃ اذا وصل الدین الیہ ولکن یلزمہ ان یسال منہ ثمن الاضحیۃ اذا غلب علی ظنہ انہ یعطیہ ‘‘ترجمہ: صاحب نصاب کا کسی ایسے شخص پر قرض فوری ہے ، جس کاوہ اقرار کرتاہے اور اس کے پاس کوئی ایسی شے نہیں کہ جس سے وہ قربانی کے لیے جانور خرید سکے ، تو اس پر قربانی کے لیے قرض لینالازم نہیں اور نہ ہی قرض واپس ملنے پر قربانی کے جانور کی قیمت صدقہ کرنالازم ہے ،لیکن اس کے لیے قربانی کی قیمت جتنی رقم کاسوال کرنا اس کے لیےلازم ہے ، جبکہ اس کوظن غالب ہو کہ وہ دے دے گا۔(فتاوی بزازیہ،جلد2،صفحہ406،قدیمی )