اعتکاف کے چند مسائل جو اعلیٰ حضرت سے پوچھے گئے


اعتکاف کے متعلق چند مسائل فتاویٰ رضویہ کی بعینہ عبارات کے ساتھ ملاحظہ کریں!

فتاویٰ رضویہ شریف جلد 10
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اعتکاف آخر عشرہ رمضان شریف کا پورے دس روز میں ادا ہوتا ہے یا تین چار روز آخر میں بھی جائز ہے؟ ایک شخص کا بیان ہے کہ مقصود مشروعیت اعتکاف کے واسطے شرف ادراک لیلۃ القدر کی ہے یہ کامل دہ  میں حاصل ہوگا، دوسرے شخص کا بیان ہے تین چار روز میں بھی جائز ہے ایسا دیکھا گیا ہے۔

الجواب
عشرہ اخیرہ کی سنتِ مؤکدہ علیٰ وجہ الکفایہ ہے، جس پر حضور پُر نور سیّد عالم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے مواظبت ومداومت فرمائی پورے عشرہ اخیرہ کا اعتکاف ہے، ایک روز بھی کم ہو تو سنّت ادا نہ ہوگی، ہاں اعتکافِ نفل کے لیے کوئی حد مقرر نہیں، ایک ساعت کا بھی ہوسکتا ہے، اگر چہ بے روزہ ہو۔ ولہذا چاہئے کہ جب نماز کو مسجد میں آئے نیتِ اعتکاف کرلے کہ یہ دوسری عبادت مفت حاصل ہوجائے گی،درمختار میں ہے:سنۃ مؤکدۃ فی العشر الاخیر من رمضان ای سنۃ کفایۃ کما فی البرھان وغیرہ۱؎۔رمضان کے آخری عشرہ میں سنتِ مؤکدہ ہے یعنی سنّتِ کفایہ ہے،جیسا کہ برہان وغیرہ میں ہے۔

فتاویٰ رضویہ شریف جلد 27
) ص ۹۴ : اعتکاف سنت مؤکدہ ہے سال بھر میں جب کیا جائے جائز ہے رمضان شریف کے پچھلے عشرہ میں افضل ہے،مذہب حنفی میں پچھلے عشرہ کا اعتکاف سنت مؤکدہ ہے،عالمگیری میں ہے :الاعتکاف سنۃ مؤکدۃ فی العشرالاخیر من رمضان ۲؎ ۔
رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف سنت مؤکدہ ہے۔(ت)
( ۲ ؎ الفتاوی الھندیۃ کتاب الصوم الباب السابع نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۲۱۱)

فتاویٰ رضویہ شریف جلد 7
ردالمحتارمیں بدائع سے ہے اگر معتکف منارہ پرچڑھا توبالاتفاق اس کا اعتکاف فاسد نہ ہوگا کیونکہ منارہ مسجد کاحصہ ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ اس میں ہر وہ عمل مثلاً بول وغیرہ منع ہے جومسجد میں منع ہے تویہ مسجد کے دیگر گوشوں کی طرح ایک گوشہ ٹھہرا

فتاویٰ رضویہ شریف جلد 8
مسجد میں ایسا اکل وشرب جس سے اس کی تلویث ہو مطلقا ناجائز ہے اگر چہ معتکف ہو، ردالمحتار باب الاعتکاف میں ہے:
الظاھر ان مثل النوم الاکل والشرب اذا لم یشغل المسجدولم یلوثہ لان تنظیفہ واجب کما امر ۲؎۔
ظاہر یہی ہے کہ کھانا پینا جبکہ مسجد کو ملوث نہ کرے اور نہ مسجد کو مشغول رہے تو یہ سونے کی طرح ہے کیونکہ مسجد کی نظافت کا خیال نہایت ہی ضروری ہے جیسا کہ گزرا۔(ت)
( ۲؎ردالمحتار باب الاعتکاف مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۲۴۶)

فتاویٰ رضویہ شریف جلد 10
بہت عبادات بدنیہ ہیں جن میں طہارت شرط نہیں، جیسے یاد پر تلاوت اور مسجد میں اعتکاف کہ ان دونوں میں وضو ضرور نہیں اور قرآن عظیم کو بے چھوئے دیکھنا، کعبہ معظمہ پر بیرون مسجد سے نظر کرنا، عالم کو بنگاہ تعظیم دیکھنا، ماں باپ کوبنظر محبت دیکھنا، عالم سے مصافحہ کرنا، یہ سب عبادات بدنیہ ہیں اور سب بحال جنابت بھی روا ہیں۔ حدیث میں ہے حضور سید عالم صلی اﷲتعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:خمس من العبادۃ قلۃ الطعم والقعود فی المساجد والنظر الی الکعبۃ والنظر الی المصحف والنظر الی وجہ العالم۴؎۔ رواہ فی مسند الفردوس عن ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالی عنہ ۔
پانچ چیزیں عبادت سے ہیں کم کھانا اور مسجدمیں بیٹھنا اور کعبہ کو دیکھنا اور مصحف کو دیکھنا اور عالم کا چہرہ دیکھنا۔ (اسے مسند فردوس میں حضرت ابو ھریرہ رضی اﷲتعالی عنہ سے روایت کیا گیا ہے۔ت)