اشاعتیں

اعتکاف لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

اعتکاف کی حالت میں سگریٹ کا حکم کیا ہے؟

کیا معتکف اعتکاف کے دوران سگریٹ پی سکتا ہے؟ الجـواب معتکف اعتکاف کے دوران عینِ مسجد (جیسے مسجد کے ہال اور صحن) میں سگریٹ نہیں پی سکتا، لیکن فنائے مسجد میں اس طرح سگریٹ پی سکتا ہے کہ سگریٹ کا دھواں عینِ مسجد تک نہ پہنچے اور مسجد میں داخل ہونے سے پہلے منہ کو اچھی طرح صاف کر لے کیونکہ اگر سگریٹ کی بدبو عینِ مسجد تک پہنچی تو بھی سگریٹ پینا جائز نہیں ہوگا یا معتکف کے منہ میں سگریٹ کی بو باقی ہوئی تو اس کے لیے مسجد میں داخل ہونا جائز نہیں ہوگا فتاوی فیض رسول جلد اول صفحہ 535 شبیربرادرز لاہور، اعتکاف کے مسائل صفحہ 23 مکتبہ اعلیٰ حضرت) نوٹ:اگر معتکف سگریٹ پینے کے لئے مسجد کے احاطہ سے باہر نکلا تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا.

معتکف کا روزہ ٹوٹنے پر اعتکاف کا شرعی حکم کیا ہے؟

اگر کسی وجہ سے معتکف کا روزہ ٹوٹ گیا تو کیا اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا؟ جواب اگر کسی وجہ سے معتکف کا روزہ ٹوٹ گیا تو اس کا اعتکاف بھی ٹوٹ جائے گا فیضان رمضان مرمم صفحہ 268 

بے ہوشی کی حالت میں اعتکاف کا حکم کیا ہے؟

کیا بیہوش ہونے سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے ؟ جواب اگر اس طرح بے ہوش ہوا کہ بے ہوشی لمبی ہو گئی جس کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ پایا یا بیہوشی کی وجہ سے روزہ ٹوٹ گیا تو پھر اعتکاف بھی ٹوٹ جائے گا اور اگر بیہوشی کی وجہ سے روزہ نہیں ٹوٹا یا روزہ نہیں چھوٹا تو پھر اعتکاف نہیں ٹوٹے گا ماخوذ از فتاوی عالمگیری، کتاب الصوم، الباب السابع فيز الاعتکاف، جلد  اول، بہارِ شریعت جلد اول حصہ پنجم

جہاں نماز جمعہ نہ ہو وہاں اعتکاف کا حکم کیا ہے؟

کیا سنتِ اعتکاف ایسی مساجد میں ہو سکتا ہے کہ جہاں پر جمعہ کی نماز ادا نہ کی جاتی ہو؟ الجــــواب: جی ہاں: سنتِ اعتکاف ایسی مساجد میں ہو سکتا ہے کہ جہاں پر جمعہ کی نماز ادا نہ کی جاتی ہو، کیونکہ سنتِ اعتکاف کے لیے جامع مسجد ہونا شرط نہیں ہے. ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3 صفحہ 493 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ ایسی مساجد جہاں پر پانچوں وقت کی نماز جماعت کے ساتھ ادا نہ کی جاتی ہو تو  وہاں پر بھی سنت اعتکاف ادا ہو جائے گا ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3 صفحہ 493 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ

معتکف کا از خودگھر سے کھانا لانےحکم کیا ہے؟

اگر کوئی مسجد میں کھانا لانے والا نہ ہو تو کیا معتکف اپنا کھانا لینے کے لئے گھر پر جا سکتا ہے؟ *اگر معتکف کیلئے مسجد میں کھانا لانے والا کوئی نہ ہو تو وہ کھانا لینے کے لئے گھر پر جا سکتا ہے۔ اعتکاف کے مسائل صفحہ 16، 17 مکتبہ اعلیٰ حضرت بحوالہ البحرالرائق، باب الاعتکاف، جلد دوم، فیضان رمضان مرمم صفحہ 268 مکتبۃ المدینہ کراچی   *اگر معتکف گھر سے کھانا لانے کیلئے گیا اور  گھر پر ہی بیٹھ کر کھانا کھا لیا تو اس کا اعتکاف ٹوٹ جائے گا. اعتکاف کے مسائل صفحہ 17 مکتبہ اعلیٰ حضرت

کیا معتکف کھانے پینے کے لئے مسجد سے باہر جاسکتا ہے؟

کیا معتکف کھانے پینے کےلئے مسجد کے باہر جاسکتا ہے؟ الجــــواب: معتکف کھانے، پینے اور سونے کے لئے مسجد سے باہر نہیں جا سکتا، اگر جائے گا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا، کیونکہ یہ سب کام مسجد میں ممکن ہیں. البحر الرائق جلد 2 صفحہ  530 مطبوعہ کوئٹہ،ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3 صفحہ 506 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ نوٹ مگر کھانے پینے میں یہ احتیاط کرنا لازم ہے کہ مسجد آلودہ نہ ہو۔* بہارِ شریعت جلد اول حصہ پنجم صفحہ 1026 مکتبۃ المدینہ کراچی

کیا معتکف کے لئے وضو شرط ہے؟

کیا اعتکاف کے لیے باوضو ہونا شرط ہے؟ الجـــــواب اعتکاف کے لیے باوضو ہونا شرط نہیں ہے. فتاوی رضویہ جلد 10 صفحہ 564 رضا فاؤنڈیشن لاہور

غیر مؤ ذن معتکف کے لئے مسجد سے باہر آذان کا حکم کیا ہے؟

اگر اذان کی جگہ مسجد کے احاطہ سے باہر و تو کیا غیرِ مؤذن بھی اس جگہ پر اذان دینے کے لئے جا سکتا ہے؟* الجواب: بعون الملک الوھاب *اگر اذان کی جگہ مسجد کے احاطہ سے باہر ہو تو غیر مؤذن بھی اس جگہ پر اذان دینے کے لئے جا سکتا ہے کیونکہ اذان دینے کیلئے مسجد سے نکلنا حاجتِ شرعی میں داخل ہے.* ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3 صفحہ 502 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ بحوالہ بحرالرائق، فتح القدیر)

کیا معتکف کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے مسجد کے باہر اعتکاف کرسکتا ہے؟

کیا تعداد کی زیادتی کی وجہ سے مرد میدان میں اعتکاف کر سکتے ہیں؟ الجـواب: بعون الملک الوھاب تعداد کی زیادتی کی وجہ سے مرد میدان میں اعتکاف نہیں کرسکتے کیونکہ مردوں کے اعتکاف کے لئے مسجد شرط ہے. ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3 صفحہ 493 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، تفسیر خزائن العرفان صفحہ 53 ضیاء القرآن پبلی کیشنز، احکام تراویح و اعتکاف صفحہ 120، 121)

کیا معتکف محراب میں جاسکتا ہے؟

کیا معتکف مسجد کی محراب میں جا سکتا ہے الجواب: بعون الملک الوھاب جی ہاں  :معتکف مسجد کی محراب میں جا سکتا ہے کیونکہ محراب مسجد کا حصہ ہے لہذا مسجد کے حکم میں داخل ہے. حبیب الفتاویٰ صفحہ 345 شبیر برادرز لاہور بحوالہ ردالمحتار علی الدرالمختار، تفہیم المسائل جلد 3 صفحہ 163 ضیاء القرآن پبلی کیشنز

معتکف کن کن ضرورتوں سے باہر جاسکتا ہے؟

معتکف کن حاجات کی بنا پر مسجد سے باہر نکل سکتا ہے؟ الجـواب: بعون الملک الوھاب معتکف درج ذیل دو (1) حاجات کی بنا پر مسجد سے باہر نکل سکتا ہے (1) حاجتِ شرعی یعنی وہ حاجت جس کا تقاضہ شریعت کی جانب سے ہو، جیسے نمازِ جمعہ ادا کرنے کے لئے جانا یا اذان کہنے کے لئے جانا وغیرہ (2) حاجتِ طبعی *یعنی وہ حاجت جس کا تقاضہ طبیعت کی طرف سے ہو، اور وہ حاجت مسجد میں پوری نہ ہو سکتی ہو، جیسے پیشاب یا پاخانہ اور وضو کرنے کے لیے جانا، احتلام کی صورت میں فرض غسل کے لیے جانا وغیرہ نوٹ اگر وضو و غسل کے لئے مسجد میں جگہ بنی ہوئی ہو تو پھر باہر جانے کی اجازت نہیں ہے ردالمحتار علی الدالمختار، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، جلد 3 صفحہ 502 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فیضان رمضان مرمم صفحہ 265، 266 

فنائے مسجد کیا ہے اور معتکف کےلئے اس کا حکم کیا ہے؟

فنائے مسجد کیا ہے اور کیامسجد کے حکم میں ہے ؟              "فنائے مسجد وہ جگہ ہے جو مسجد سے ملحق و متصل ضروریات و مصالح مسجد کے لئے ہو - مثلا وضو خانہ ٬ استنجاء خانہ ٬ جوتے چپل اتارنے کی جگہ وغیرہ ردالمحتار میں ہے (قوله كفناء المسجد) هو المكان المتصل به ليس بينه و بينه طريق فهو مسجد كالمتخذ لصلاة جنازه او عيد سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا قادری محدث بریلوی قدس سرہ ارشاد فرماتے ہیں : فناء وہ ہے جو متصل بہ مسجد ہو - جو دوکان متصل بہ مسجد ہو فقہائے کرام نے اسے بھی فنائے مسجد قرار دیا ہے - فقیہ النفس امام قاضی خان قدس سرہ فرماتے ہیں : يصح الافتداء لمن قام علي الدكاكين التي تكون علي باب المسجد متصله به امام اہل سنت سیدی سرکار اعلی حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ ارشاد فرماتے ہیں : دروازہ مسجد پر جو دوکانیں ہیں فنائے مسجد ہیں کہ مسجد سے متصل ہیں ان تمام ارشادات سے واضح ہے کہ وضو خانہ استنجاء خانہ غسل خانہ جو مدرسہ متصل بہ مسجد ہو وہ سب فنائے مسجد ہے اور فنائے مسجد بعض مسائل میں مسجد کے...

اعتکاف کے چند مسائل جو اعلیٰ حضرت سے پوچھے گئے

اعتکاف کے متعلق چند مسائل فتاویٰ رضویہ کی بعینہ عبارات کے ساتھ ملاحظہ کریں! فتاویٰ رضویہ شریف جلد 10 کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اعتکاف آخر عشرہ رمضان شریف کا پورے دس روز میں ادا ہوتا ہے یا تین چار روز آخر میں بھی جائز ہے؟ ایک شخص کا بیان ہے کہ مقصود مشروعیت اعتکاف کے واسطے شرف ادراک لیلۃ القدر کی ہے یہ کامل دہ  میں حاصل ہوگا، دوسرے شخص کا بیان ہے تین چار روز میں بھی جائز ہے ایسا دیکھا گیا ہے۔ الجواب عشرہ اخیرہ کی سنتِ مؤکدہ علیٰ وجہ الکفایہ ہے، جس پر حضور پُر نور سیّد عالم صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم نے مواظبت ومداومت فرمائی پورے عشرہ اخیرہ کا اعتکاف ہے، ایک روز بھی کم ہو تو سنّت ادا نہ ہوگی، ہاں اعتکافِ نفل کے لیے کوئی حد مقرر نہیں، ایک ساعت کا بھی ہوسکتا ہے، اگر چہ بے روزہ ہو۔ ولہذا چاہئے کہ جب نماز کو مسجد میں آئے نیتِ اعتکاف کرلے کہ یہ دوسری عبادت مفت حاصل ہوجائے گی،درمختار میں ہے:سنۃ مؤکدۃ فی العشر الاخیر من رمضان ای سنۃ کفایۃ کما فی البرھان وغیرہ۱؎۔رمضان کے آخری عشرہ میں سنتِ مؤکدہ ہے یعنی سنّتِ کفایہ ہے،جیسا کہ برہان وغیرہ میں ہے۔...