نا بالغ بچہ قسم توڑے تو شرعاً کیا حکم ہے
نابالغ بچہ قسم توڑ دے ، تو کیا اس پر کفارہ ہوگا ؟ (شرعی عدالت مسلک اعلیٰ حضرت ) سوال کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگرنابالغ بچہ یابچی کوئی قسم کھالیں مثلاً مدرسہ یا اسکول نہ جانے کی قسم کھالیں ، پھر وہ اسکول یا مدرسہ چلے جائیں ، تو کیا بچوں پر بھی اپنی قسم کو پورا نہ کرنے کے سبب کفارہ لازم ہوگا؟ اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ نابالغ بچے یا بچی پرقسم کاکفارہ دینا لازم نہیں کیونکہ قسم منعقد ہونے کے لئے چند شرطیں ہیں کہ اگر وہ نہ ہوں توکفارہ نہیں اوران میں سے ایک شرط بالغ ہونا بھی ہے۔ بدائع الصنائع میں ہے: ”منھا ان یکون عاقلاً بالغاً فلا یصح یمین الصبی و المجنون وان کان عاقلاً لانھا تصرّف ایجاب وھما لیس من اھل الایجاب“ ترجمہ:قسم درست ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط قسم کھانے والے کا عاقل بالغ ہونا ہے ۔ چنانچہ (نابالغ ) بچہ اگرچہ عقلمند ہو اور پاگل کا قسم کھانا درست نہیں کیونکہ قسم کھانا کوئی چیز اپنے اوپر لازم کرنے کا اقدام ہے اور پاگل اور بچہ اس تصر...